29 مارچ 2011 - 19:30

اب یہ حقیقت کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انقلاب بحرین میں شیعہ اور سنی دونوں برابر کی شریک ہیں، یہ تحریک در حقیقت بحرینی عوام کی تحریک ہے جس میں آل خلیفہ خاندان اور ان کے بیرونی حامیوں کے سوا تمام بحرینی عوام بشمول شیعہ اور سنی شامل ہیں۔

آل خلیفہ اور آل سعود سمیت کئی قوتیں اس تحریک کو سنیوں کے خلاف شیعوں کا فتنہ قرار دیتے ہیں جس کے ان کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں ہے اور ان کی تشہیراتی قوت کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔سعودی عرب نے بحرین پر جارحیت کی تو حقائق سے بے خبر لوگوں نے اس سعودی اقدام کو بحرینی سنیوں کے بچاؤ کا اقدام قرار دیا جبکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو امریکہ پہلے سے بحرین میں موجود ہے اور وہ سعودی عرب کو ہرگز مداخلت کی اجازت نہ دیتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آل سعود  نے امریکہ کے حکم پر بحرین پر چڑھائی کی اور تشہیراتی مہم میں یہ جتانے کی کوشش کی کہ گویا وہ دنیا میں اہل سنت و الجماعت کی قیادت کررہے ہیں اور ان کو ان کے دشمنوں سے بچارہے ہیں جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ان کی اپنی حکومت ایک بادشاہی حکومت ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجایش ہی نہیں ہے اور پھر سعودی حکمران خاندان امریکہ اور اسرائیل کا قریبی حلیف ہے اور پھر سعودی خفیہ ایجنسی کے سربراہ شاہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کل تک ماسکو میں تھے جبکہ بحرین میں مداخلت کرنے والے دوسرے ملک متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان کے سیکورٹی چیف نیز فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل نواز صدر محمود عباس بھی ماسکو یاترا پر تشریف لے گئے تھے جہاں  تینوں روسی حکام کی موجودگی میں صہیونی وزیر اعظم بنیامین نتانیاہو کی دستبوسی کے لئے حاضر ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہاں کیا طے پایا جس کا جواب وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوجائے گا لیکن یہ بات واضح ہے کہ آل سعود نے بحرین پر امریکہ کے حکم پر چڑھائی کررکھی ہے اور سینکڑوں بحرینی اس کی قید میں ہیں اور ان کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اور ٹارچر کر رہا ہے جس کے لئے اسرائیلیوں کے تجربات کی بھی ضرورت ہے کہ کسی گرفتار سیاستدان سے دل کی بات سننے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ اور یہ کہ صہیونی فلسطینیوں کی ساتھ کیا سلوک کرکے ان سے اعتراف کراتے ہیں؟ اور دوسری بات یہ ہے کہ مصر میں انقلاب کامیاب ہوگیا ہے اور اس انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے سعودیوں کی اربوں ڈالر رشوت کی پیشکش بھی سامنے آئی ہے جبکہ اس انقلاب سے سب سے بڑا نقصان صہیونی ریاست کو ملی ہے اور اب سعودی یہودی مل کر اس انقلاب کو ناکام بنانے کی کوششوں پر بات چیت کرنے کے لئے روس اور کسی بھی دوسرے ملک میں مل سکتے ہیں۔تیسری بات یہ ہے کہ غزہ کے قلعہ بند سنی مسلمانوں نے اسرائیل کو میزائلوں کا نشانہ بنانا شروع کیا ہوا ہے اور اسرائیل کی خواہش ہے کہ سعودی عرب تیل کی دولت اور بعض حلقوں میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے فلسطیینیوں کو روکنے کی کوشش کرے اور دولت استعمال کرکے نئی مصری حکومت کو رفح بارڈر کھولنے سے روک دے۔اور شاید سب سے اہم بات یہ ہو کہ سعودی عرب نے اب علاقے میں امریکہ کے ریجنل پولیس مین کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے وہی کردار جو کسی زمانے میں ایران کے شاہ کو سونپ دیا گیا تھا اور اسلامی انقلاب کے بعد ایران امریکی تسلط سے آزاد ہوا تو یہ کردار بھی ختم ہوگیا لیکن جب علاقے میں جمہوریت کے لئے انقلابات کا آغاز ہوا تو امریکہ نے سعودی عرب سے کہا کہ اگر حجاز و نجد کے عوام کا انقلاب روکنا ہے اور آل سعود کی حکمرانی بچانی ہے تو علاقے میں رونما ہونے والے انقلابات کو ناکام بنانے اور امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ بٹانے کے لئے فعال ہونا پڑے گا چنانچہ سعودی عرب نے بحرین میں مداخلت کی، یمن میں مداخلت کی، مصر میں مداخلت کررہا ہے جبکہ مصر اور یمن میں شیعہ اور سنی کا کوئی مسئلہ اٹھانا ہی جہل ہے جبکہ بحرین میں شیعہ اور سنیوں نے مل کر انقلاب کا آغاز کیا ہے لیکن جمہوریت اور انقلاب اور صہیونیت دشمنی کے نعرے لگانے والے بحرین میں سعودی مداخلت کو ایک مذہبی اقدام قرار دے رہے ہیں! آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا ہمارے ذہنوں اور ہماری فکروں پر تالے پڑے ہیں؟ کیا ہم حقائق کے ادراک کے لئے تعصب کی پٹی اپنی آنکھوں سے کھولنی کے لئے اب بھی تیار نہیں ہیں؟ کیا ولی الامر کا پرانا اور جعلی قاعدہ اب بھی ہمارے ذہنوں پر مسلط ہے؟ اور کیا خاندانی حکومت اسلام میں اصولی طور پر جائز ہے؟ کیا ہمیں یہ واقعی نہیں معلوم کہ سلطنت عثمانیہ کو مغرب نے نیست و نابود کردیا تھا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہر ٹکڑے کو کسی ایک خاندان کے حوالے کیا تھا؟ اور یہ خاندان تا ابد استعمار کے مفادات کے محافظ ہیں اور اگر مخالفت کریں تو یہ بے چارے خاندانی حکمران اپنے ہی بچوں کے ہاتھوں یا تو قتل ہوجاتے ہیں یا پھر انہیں برطرف کروایا جاتا ہے؟ہم انقلاب کے نعرے لگا کر بحرین میں انقلاب کی مخالفت کیوں کرتے ہیں جبکہ یہ انقلاب مصر اور تیونس کے انفلاب کے عین مطابق ہے؟ ہم یہودیت کے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور جس کو بھی اپنا مخالف قرار دینا چاہیں اس کو یہودیت سے تعلق کا الزام دیتے ہیں اور انہیں یہودیوں سے تشبیہ دیتے دیتے نہیں تھکتے لیکن جب مقرن بن عبدالعزیز بحرین میں مداخلت کو ضابطہ اور قاعدہ دینے اور غزہ کے مسلمانوں کی مظلومیت میں اضافہ کرنے کے لئے روس میں فلسطینی سنیوں کے قاتل اور فلسطینی سنیوں کی ناکہ بندی کرنے کے مجرم بنیامین نتانیاہو سے ملاقات کرتے ہیں تو یہ سب ہمیں نظر کیوں نہیں آتا اور ہم پھر بھی آل سعود کو اسلام اور مسلمانی کی علامت کیوں سمجھتے ہیں؟ کیا ان کا نظام اسلامی نظام ہے؟ کیا اسلام میں ملوکیت کی گنجائش ہے؟ ہم پاکستان میں کسی بھی بہانے مظاہرہ کرتے ہیں تو امریکہ کا پرچم ضرور جلاتے ہیں اور پرچم جلا کر خوش ہوا کرتے ہیں کہ ہم نے کیا تیر مارا اور عرصہ دراز تک خوش رہتے ہیں کہ ہم نے گویا اسلام پر عالمی یلغار کا جواب دینے کے سلسلے میں اپنا فرض نبھایا ہے لیکن جب بحرین میں سنی اور شیعہ اٹھ کر استعمار اور اس کے ایجنٹ آل خلیفہ کے خلاف انقلاب کرتے ہیں اور سعودی عرب آل خلیفہ کو سنی اور شیعہ مظلومین سے بچانے کے لئے جارحیت کرتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ گویا سعودیوں نے اہل سنت کے دفاع کے لئے بحرین پر چڑھائی کی ہے؟ جبکہ ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ سعودی خاندان امریکہ اور مغرب کا پرانا حلیف ہے اوراس نے امریکہ کے حکم پر اس جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس دنیا میں جہاں کہیں بھی امریکہ کسی فریق کی حمایت کرتا ہے اس کا مفصد امریکہ اور صہونیت کے مفادات کی حفاظت کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ آل خلیفہ حکمرانوں کا حامی ہے اور آل سعود اور آل نہیان اور آل ثانی کی جارحیت بھی امریکی وزیر دفاع کے دورہ بحرین کے بعد وقوع پذیر ہوئی ہے؟ ہم یہ سارے تضادات اپنے لئے حل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ کیا یہ سب حقائق بہت زیادہ پیچیدہ اور ناقابل فہم ہیں؟ہم امریکہ اور اسرائیل کو اسلام دشمن سمجھتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا بھی ہے کہ یہ دو قوتیں واقعی اسلام دشمن ہیں اور اسلام اور قرآن کی بیخ کنی کی سازشوں میں مصروف ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جو لوگ ان دوقوتوں کے دوست ہوتے ہیں وہ اسلام کے دوست نہیں ہوسکتے بلکہ دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے؟ کیا ہم نے ابھی تک سوچا ہے کہ سعودی حکمرانوں کو صرف ایک ہی امتیاز حاصل ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ حرمین شریفین پر مسلط ہیں ورنہ ان کا کسی مذہب سے بھی تعلق نہیں ہے اور اگر آل سعود خاندان ـ نیز آل نہیان، آل ثانی، آل صباح، آل خلیفہ وغیرہ ـ کے تمام افراد کے کرتوتوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات اسلام کے کسی بھی مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ تو دنیا پر مسلط لبرل سرمایہ داری کے کٹھ پتلی ہیں اور اس نظام کی حفاظت کے سوا ان کو مزید کچھ سوچنے تک کی اجازت نہیں ہے؟عجیب بات ہے کہ پاکستان میں بعض لوگوں نے بحرینی انقلاب کے حق میں ریلیاں نکالیں اور مظلومین کی حمایت کی تو دوسری طرف سے بعض لوگوں نے سعودی جارحیت کے حق میں ریلیاں نکالیں اور یہ ریلیاں ایسے وقت میں سامنے آئیں کہ سعودی خفیہ ایجنسی کے سربراہ شاہزادہ مقرن بن عبدالعزیز روس میں صہیونی وزیر اعظم سے ملاقات کررہے تھے اور آل خلیفہ کے وزیر خارجہ پاکستان سے مسلح افواج کے لئے بھرتی کرانے کے لئے اسلام آباد کے دورے پر تھے۔ پاکستان میں یہودیوں کے حلیف سعودی خاندان کی جارحیت کے حق میں ریلیاں نکالنے والے عام طور پر اپنے تشہیراتی ذرائع میں بحرین کے حامیوں کو یہودیوں کے ایجنٹ قرار دیتے ہیں جبکہ یہاں تو بالکل واضح سے بات ہے کہ بحرین کے انقلاب کو ناکام بنانے میں اب اسرائیل کا ہاتھ بھی نظر آنے لگا ہے اور وہ بھی اب اپنے آپ کو سعودیوں کے حق میں سفارتی اور فوجی اقدامات کرنے کا پابند سمجھتا ہے؟ کیا یہ سب سمجھنا بہت مشکل ہے اور کیا یہ واضح سی بات بہت ناقابل فہم اور پیچیدہ ہے؟ہاں البتہ بعض جانی پہچانی جماعتوں نے بھی سعودی جارحیت کی حمایت میں ریلیاں نکالیں وہی جو مصر کے انقلاب کے حامی تھے لیکن انھوں نے انقلاب لیبیا کی مخالفت کی کیونکہ قذافی سے انہیں عام طور پر نقد امداد ملا کرتی تھی!۔ لنک دیکھئے:

<فضل الرحمن نے قذافی سے یکجہتی کا اعلان کردیا>

راقم کا نہیں خیال کہ مواصلات کے اس دور میں حقائق کو پرانے زمانوں کی مانند لمبے عرصے تک چھپایا نہیں جاسکتا لیکن بعض اوقات ہماری نادانیوں کی وجہ سے بعض قوموں کے بنیادی حقوق چھن جاتے ہیں اور گوکہ بعد میں حقائق آشکارا ہوجاتے ہیں لیکن ملنے والے نقصانات کی تلافی کرنا ممکن نہیں ہوتی چنانچہ حق و حقیقت کی پاسبانی ہی اسلام کا اصل سبق ہے جس میں ہمیں اپنے ذاتی رجحانات کو عمل دخل حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ ۔۔۔۔۔۔

/110

- صہیونی وزیر اعظم اور عرب حکام ماسکو کے مشترکہ دورے پر!

- بحرین؛اور سعودی نعرہ " مرحبا یا رسول الاسلام"

- مقرن بن عبدالعزیز اور نتانیاہو کی ملاقات، لنک دیکھئے:

- Israeli and Saudi leaders discussed the ramifications of the Arab uprising in Moscow